Wednesday, April 27, 2016
Thursday, April 21, 2016
Sunday, April 10, 2016
ہری پور شہر کی بنیاد 1821ء میں سکھ جنرل ہری سنگھ نلوہ نے فوجی نقطہ نظر سے رکھی۔ ہری پور شہر میں ایک قلعہ تعمیر کیا گیا جس کی دیواریں 4 میٹر چوڑی اور16 میٹر اونچی تھیں۔ قلعہ میں داخل ہونے کے لئے چار دروازے تھے۔ ہري پور کا نام رنجيت سنگھ کےايک سِکھ جرنيل ہري سنگھ نالوا کے نام پر رکھا گيا۔ ہري پور تحصيل کو يکم جولائی، 1992ء ميں ضلع کا درجہ دے کر ضلع ايبٹ آباد سے علحيدہ کر دياگيا۔ یہ شہر اسلام آباد سے 65 کلومیٹر اور ایبٹ آباد سے 35 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس ضلع کو جغرافيائي محلِ وقوع کے لحاظ سے کليدي حيثيّت حاصل ہے۔ کيونکہ يہ ضلع ہزارہ ڈویژن اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے مابين ايک پھاٹک کا درجہ رکھتا ہے۔ اپنے منفرد محل وقوع کی وجہ سے ہری پور کی حدور آٹھ مختلف اضلاع سے ملتی ہیں ،جن کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ہری پورکی مشرقی اور شمال مشرقی سرحد ضلع ایبٹ آباد سے ملتی ہے۔شمال میں یہ ضلع مانسہرہ اور شمال مغرب میں ہری پور کا ناڑا امازئی اور بیٹ گلی کا علاقہ تورغر اور بونیر سے ملتا ہے۔ہری کی مغربی سرحد میں ضلع صوابی واقع ہے۔مغرب اور جنوب مغرب میں پنجاب کے دو اضلاع اٹک اور راولپنڈی جبکہ جنوب مشرق میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد واقعہ ہے۔ ہری پور موسم کے لحاظ سے گرم بارانی معتدلہ خطے میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ یہاں سب سے ذیادہ گرم مہینہ جون کا ہوتا ہے، جس درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی بڑھ جاتا ہے،اس کے بعد جولائی ،اگست میں مون سون کی وجہ سے بہت ذیادہ بارشیں ہوتیں ہیں جس سے گرمی کا زور تو ٹوٹ جاتا ہے مگر حبس بہت بڑھ جاتی ہے۔ نومبر کا مہینے میں سب سے کم بارش ہوتی ہے اور پور ماہ عموماً خشک سردی میں گزرتا ہے ۔سردی کے موسم میں جنوری سب سے سرد ہوتا ہے، جب بعض دنوں میں درجہ حرارت نقظہ انجماد سے بھی گر جاتا ہے۔مارچ ،اپرئل اور ستمبر،اکتوبر کے مہینوں میں موسم معتدل رہتا ہے ۔ ضلع ہری پور کوغازی اور ہری پور دو تحصیلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔صوبائی اسمبلی کیلئے ضلع چار صوبائی حلقوں میں تقسیم ہے۔جو کہ بالترتیب پی کے 49،پی کے 50، پی کے 51 اور پی کے 52 کے نام سے منسوم ہیں۔قومی اسمبلی کیلئے پورے ضلع صرف ایک حلقے تک محدور ہے جو کہ این اے 19 کہلاتا ہے۔ 2002ء میں منعقدہ بلدیاتی انتخابات میں ضلع ہری پور کو 45 یونین کونسلوں میں تقسیم کیا گیا ۔جن میں سے 37 ہری پور جبکہ صرف 8 تحصیل غازی میں شامل ہیں۔ صنعتي لحاظ سے ہري پور صوبہ خیبر پختونخواہ ميں بڑ ا ضلع ہے بڑے بڑے صنعتي يونٹ جيسے ٹيلي فون فيکٹري، ہزارہ فرٹيلائزر، پاک چائنا فرٹيلائزر، تربيلا کاٹن ملز اور کئي اُوني کارخانے قائم ہيں۔ علاوہ ازيں حطار انڈسٹریل اسٹیٹ ميں کئي چھوٹے بڑے کارخانے لگائے گئے ہيں۔ ان صنعتوں کي وجہ سے يہ ضلع ملکي سطح پر معاشي ترقي ميں ايک اہم کردار ادا کر رہاہے۔ ہری جغرافیائی لحاظ سے انتہائی متنوع ضلع ہے۔یہاں پر زرخیز میدانی علاقوں سے ساتھ،بلندوبالا پہاڑ بھی موجود ہیں۔ایک طرف میدانی علاقے کھیتوں کا باغات سے لیس ہیں تو دوسری طرف یہاں کے پہاڑ جنگلوں ،ندی نالوں اور آبشاروں سے آباد ہیں۔اس لئے یہاں حیونات اور نباتات کی بہت سی نسلیں موجود ہیں۔ ہری پور کا ذیادہ تر زرعی رقبہ بارانی ہے ،جہاں سال میں دو بار ربیع اور خریف کی فصیلیں بوئی اور کاٹی جاتی ہیں۔ان فصلوں میں گندم، مکئی ،باجرہ اور سرسوں شامل ہیں۔انکے علاوہ سرائے صالح کے مقام پر دوڑ ندی سے اور خانپور ڈیم سے نکالی گئی نہروں پر مشتمل علاقوں میں سبزیاں بھی کاشت کی جاتی ہیں۔یہاں پر عام کاشت کی جانے والی سبزیوں میں مٹر، ٹماٹر،آلو،پیاز، کھیرے،بینگن،کدو، لہسن، ادرک، کریلا،ٹیندا، پیٹھا اور پالک شامل ہیں۔یہ ضلع خاص کر سبزی نہ صرف پشاور بلکہ اسلام آباد اور صوبہ پنجاب کو بھی مہياکرتا ہے۔ ہری پور میں پھلوں کے باغات پر کثرت سے موجود ہیں ۔ جن میں لوکاٹ، امرود، مالٹا اور لیچی جیسے پھل پیدا ہوتے ہیں۔خاص کر لوکاٹ کی پیداوار کے حوالے سے ہری پور بہت مشہور ہے۔اس کے علاوہ خانپور میں پیدا ہونے والے مالٹا اپنے ذائقے میں ثانی نہیں رکھتا۔ان باغات میں بلڈ مالٹا اور شکری مالٹا حاصل کیا جاتا ہے۔ پشاور سے اسلام آباد موٹر وے اور غازی بروتھا بند پروجيکٹ کے قيام سے ضلع کی سماجی اور معاشی ترقی مزيد يقينی ہونے کا امکان ہے۔ تحصیلوں کی تعداد2: ہری پور اور غازی ہري پور ضلع کا کُل رقبہ1725 مربع کلوميٹر ہے۔ یہاں في مربع کلو میڑ 466 افراد آباد ہيں سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 803000 تھی دیہی آبادي کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے۔ کُل قابِل کاشت رقبہ 77370 ہيکٹيرزہے دنيابھر ميں مٹی کا بنا ہوا سب سے بڑا بند تربیلا بند اسي ضلع ميں دریائے سندھ پر تعمير کيا گيا ہے. يہ ڈيم 2200 ميگاواٹ بجلي پيدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی ہری پور پھر میں چھوٹے بڑے ڈیموں کا جال بچھا ہوا ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔ خان پور ڈیم تربیلہ ڈیم خیرباڑا ڈیم کاہل ڈیم بھُٹڑی ڈیم منگ ڈیم
Sunday, April 3, 2016
ھری پور کا ایک خاموش ھیرو " آج پاک فضائیہ کے ایک ایسے قومی ہیرو پر لکھنا چاہتا ہوں جس نے خاموشی سے اپنا کام کیا، خاموشی سے ایئرفورس سے رخصت ہوا اور ایک دن اسی خاموشی سے دنیا بھی چھوڑ گیا۔ اس کے بارے میں میڈیا بھی ہمیشہ خاموش ہی رہا کیونکہ وہ ان میں سے نہ تھا جو اپنی پبلسٹی کے لئے جرنلسٹوں کو کرائے پر حاصل کئے رکھتے ہیں۔ ایئر چیف مارشل انور شمیم ہری پور میں پیدا ہوئے۔ 1952ء میں ایئر فورس جوائن کی۔ وہ 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں کے ہیرو رہے اور 1978ء میں پاک فضائیہ کے سربراہ بنے۔ وہ ایئرفورس کے نہایت سخت گیر افسران میں سے رہے ہیں۔ ہر لمحے کچھ بڑا کرنے کو بیتاب رہنے والا یہ افسر جب پاک فضائیہ کا سربراہ بنا تو اس نے انگریزوں سے ورثے میں ملنے والی پاک فضائیہ کو آج کی ماڈرن پاک فضائیہ میں بدل ڈالا۔ امریکہ سے ایف 16 اور چائنہ سے اے 5 لڑاکا طیارے حاصل کرکےپرانے طیاروں کو چلتا کیا۔ پاک فضائیہ کا ہیڈ کوارٹر چک لالہ منتقل کیا اور کئی نئے ایئر بیس کھڑے کر دیے۔ بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ افغان وار کے دوران تینوں مسلح افواج میں سے صرف پاک فضائیہ تھی جس نے رشین ملٹری سے طویل دو بدو جنگ لڑی۔ پاکستان کی فضائی سرحدوں کی حفاظت کی یہ جنگ جو انور شمیم کے دورانیے میں لڑی گئی اس لحاظ سے قابل تعریف ہے کہ پاک فضائیہ نے ان جھڑپوں میں آٹھ رشین لڑاکا طیارے مار گرائے جبکہ اس کا صرف ایک ایف 16 طیارہ تباہ ہوا جس کا پائلٹ فلائٹ لیفٹنٹ شاہد سکندر پیرا شوٹ کی مدد سے بحفاظت زمین پر اترنے میں کامیاب رہا تھا یوں پاک فضائیہ کو اس جنگ کے دوران کسی جانی نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ایئر مارشل انور شمیم کا دوسرا بڑا کارنامہ 1984ء میں کہوٹہ پر اسرائیل کے ممکنہ حملے کو ناکام کرنا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ رات بارہ بجے کے بعد مجھے بیرون ملک سے کال موصول ہوئی کہ اسرائیل کے لڑاکا طیارے انڈیا کی طرف جاتے دیکھے گئے ہیں۔ میں نے فورا پاک فضائیہ کو ہائی الرٹ کے احکامات جاری کئے، فوری طور پر جنرل ضیاء کو آگاہ کیا اور ساتھ ہی ان سے ٹرامبے میں واقع بھارت کے بھابا نیوکلیئر پلانٹ کو جوابی حملے میں تباہ کرنے کی اجازت حاصل کرلی۔ رات دو بجے پوری پاک فضائیہ کا 80 فیصد سٹاف اپنی اپنی ڈیوٹی سنبھال چکا تھا اور ہمارے لڑاکا طیارے روالپنڈی اور اسلام آباد کی فضاؤں میں نچلی اور درمیانی سطح پر پرواز شروع کرچکے تھے۔ اس دوران بھارت کو ہماری تیاری کی اطلاع دیدی گئی یوں وہ اور اسرائیل اپنی حماقت سے باز آگئے۔ ایئر مارشل انور شمیم کا تیسرا اور نہایت ہی اہم کارنامہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کے میزائل پروگرام کے بانیوں میں سے ہیں۔ ہماری باقاعدہ سٹریٹیجک کمانڈ فورس تو پچھلے بارہ سالوں کے دوران بنی ہے لیکن ایئر فورس کی سٹریٹیجک کمانڈ انور شمیم اسی کی دہائی میں بنا چکے تھے کیونکہ تیار ہوتے ایٹم بم کے استعمال کا پہلا ممکنہ آپشن پاک فضائیہ ہی تھی ۔ تب جنرل ضیاء نے پاکستان کے شروع ہوتے میزائل پروگرام کا چارج بھی اس سٹریٹیجک کمانڈ کے سپرد کردیا یوں منیر اے خان کا پروجیکٹ ایئر مارشل انور شمیم کی براہ راست نگرانی میں آ گیا۔ ہمارے میزائلوں کی پہلی نسل جو حتف سیریز کہلاتی ہے اور جس کا پہلا تجربہ 1989ء میں ہوا تھا یہ انور شمیم ہی کی محنت کا حاصل تھا۔ پروفیشنل ازم کے حوالے سے ان کے غیر متزلزل طرز عمل کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ 1982ء میں وہ پی اے ایف مسروربیس کراچی میں ہونے والی سالانہ پریڈ میں شرکت کے لئے آنے لگے تو احکامات بھجوادئے کہ پریڈ مذہبی ونگ کا افسر کروائے گا۔ ایئر فورس کے مذہبی ونگ کے افسران علماء ہی ہوتے ہیں اور وہ ان ایکٹوٹیز سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ تب مسرور بیس پر سکوارڈن لیڈرمولانا فضل اللہ مذہبی ونگ کے سربراہ تھے۔ ان تک یہ احکامات پہنچے تو وہ ہکا بکا رہ گئے لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتادیا گیا کہ باس کے آڈرز ہیں کہ ایئرفورس کا کوئی بھی وردی پوش افسر اب کسی بھی چیز سے مستثنیٰ نہیں ہوگا۔ پریڈ کروایے یا وردی اتارنے کی تیاری کیجئے۔ سکوارڈن لیڈر مولانا فضل اللہ صاحب نے اگلے ایک ہفتے میں پریڈ کی تربیت لی اور ایسی پریڈ کروائی کہ انورشمیم سے انکی تقریر میں داد بھی پائی۔ پریڈ کا یہ واقعہ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کیونکہ اس زمانے میں میرے والد مرحوم مسرور بیس کے خطباء میں شامل تھے۔ مجھے آج بھی یاد ہے فضل اللہ صاحب پریڈ کے اگلے روز ہمارے گھر آئے تھے اور والد صاحب سے فرما رہے تھے "پریڈ کراتے ہوئے میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں" ۔۔ ایئر چیف مارشل انور شمیم کو ان کی اہمیت کے سبب بار بار ایکسٹنشنز دی گئیں، وہ تقریبا سات سال پاک فضائیہ کے سربراہ رہے اور 1985ء میں ریٹائر ہوئے۔ وہ پاکستانی ملٹری کی تاریخ میں سب سے زیادہ فوجی اعزازات پانے والے افسران میں سے ہیں۔ انکے بڑے اعزازات میں ستارہ امتیاز (ملٹری) ہلال امتیاز (ملٹری) نشان امتیاز (ملٹری) اور ستارہ جرات شامل ہیں جبکہ عرب اسرائیل جنگ کے بعد ڈیپوٹیشن پر اردن میں رہتے ہوئے اردن کی فضائیہ کو از سر نو بحال کرنے پر انہیں اردن کی طرف سے الاستقلال ایوارڈ دیا گیا۔ انہیں امریکہ کی جانب سے Legion of Merit (ملٹری) ایوارڈ بھی دیا گیا جو پاک فضائیہ کو دنیا کی صف اول کی ایئرفورسز میں لا کھڑا کرنے کے اعتراف میں تھا۔ ایئر چیف مارشل انور شمیم چار جنوری 2013ء کو اکیاسی برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے۔
Friday, April 1, 2016
www.bandiseeran.blogspot.com
www.bandiseeran.blogspot.com ہزارہیونیورسٹی
Subscribe to:
Posts (Atom)
















