Monday, March 7, 2016
پرانے لوگ کہتے ہیں اتفاق میں برکت ہے اور ’’حشر‘‘ کی شکل میں اپنی کہی ہوئی بات پر عمل درآمد بھی کرتے چلے آرہے ہیں زمانہ قدیم سے رائج اس رواج کے کچھ دلچسپ پہلو ؤں کی جھلک دیکھئے ایک ’’حشر ‘‘ میں شرکت کی ۔گھاس کاٹنے کیلئے اہل علاقہ اور ملحقہ دیہاتوں کے دوست احباب صبح سویر ے ہی میزبان کی ’’رکھ‘‘میں جمع ہوگئے اور ڈھولک کی تھاپ پر کام کا آغاز کیا۔شینائی اور ڈھولک کی گونج سن کر قریبی علاقوں سے مزید لوگ بھی اس طرف آنے لگے پہلے وفقے میں مہمانوں کی تواضہ راس اور چائے سے کی گئی اورپھر کام شروع ہوگیا۔بزرگ پیچھے کسی کونے میں کھڑے ہندکو زبان کے کچھ مخصوص پرجوش الفاظ کے ذریعے گھاس کاٹنے میں مصرف نوجوانوں کا حوصلہ بلند کررہے تھے۔حشر میں دن کا کھاناعام طورپرلسی،مکئی کی روٹی اورچٹنی پر مشتمل ہوتا ہے تاہم یہاں ان میں سے کچھ آئیٹمزکی کمی محسوس کی گئی۔کھانے کے وقفے کے بعد حشر کے دوران نوجوانوں کے گروپس میں گھاس کاٹنے کے دلچسپ مقابلے میں دیکھنے کو ملے۔اور پھر دور چلا سپہر کی چائے کا جس کے ساتھ مہمانوں کو جلیبی بھی دی گئی،حشر میں شامل ہرشحض کے چہرے پر خوشی عیاں تھی، شام کوگھاس کی کٹائی مکمل ہونے پر دیسی گھی اور دال میں روٹیاں ڈال کردی گئیں خوشیوں سے بھرپور دن کا اختتام ڈھولک کی تھاپ پر کہمر سے ہوا جس میں نوجوانوں نے بھرپور شرکت کی،۔جو ہزارہ کا روایتی رقص بھی ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment